30 November 2012

قحط الرجال

ہم میں سے اکثر لوگ اس بات کا گلہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمارے ملک میں قحط الرجال ہے،وہی پرانی چہرے بدل بدل کر سامنے آ جاکیا تے ہیں،لیکن اصل بات یہ ہے کہ اس کے ذمے دار ہم ہیں.

ہم خود تبدیلی کے حامی نہیں .روزمرّہ معاملات میں ہمارا رویہ اس قسم کا ہوتا ہے جسے پنجابی میں "ڈنگ ٹپاؤ" کہتے ہیں.اس کی ایک بہت چھوٹی  اور عام مثال یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بہت سی مساجد ایسی ہیں جو آباد ہیں.کچھ نمازی 30 سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے مستقل پنجگانہ نماز ادا کرنے آتے ہیں مساجد میں،لیکن انہی مساجد میں امامت 19 ،20 سال کے نوجوان کرواتے ہیں .اور اچھے خاصے پیرانہ سال نمازی بھی اسی نوجوان کی اقتدا کرکے اپنے کندھے سے فرض اتار رہے ہوتے ہیں کسی کو اتنی توفیق نہیں ہوتی کہ امامت کا ذمہ اپنے سر لے لے .بہت سے خطیب حضرا ت غلط روایات اور خلاف حقایق باتیں بہت دھڑلے سے بیان کر جاتے ہیں .میں ایک نہایت ہے احقیر اور گناہگار سا آدمی ہوں لیکن کوشش کرتا ہوں کہ اپنی آنکھیں اور کان کھلا  رکھوں اور دماغ کی کھڑکی بھی بند نہ ہونے دوں .تقریبا ہر جمعے کو ایسی روایت سننے کو ملتی ہیں اور میرا خون بھی کھولتا ہے لیکن اندیشہ نقص امن کے  تحت خاموش رہتا ہوں .

ایک بار ایک مسجد میں جانے کا اتفاق ہوا.وہاں جا کر دیکھا تو مسجد میں بہت خوبصورت کام کیا گیا تھا ،جس طرح  پاک و ہند کی مساجد میں ہوتا ہے.لیکن ایک چیز دیکھ کر دکه ہوا کہ وہاں مذاہب اربعہ کے بانی حضرات کے نام تو لکھے ہوے تھے اور ان کے بعد حضرت علی بن عثمان الہجویری المعروف  حضرت  داتا صاحب کا نام بھی لکھا تھا ،لیکن حضرت امام جعفر صادق علیھ سلام کا نام وہاں نہیں لکھا گیا تھا .مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ اب ٹوہ جامعہ الازہر نے بھی فقہ جعفریہ کو تسلیم کر لیا ہے،تو انہوں نے مذاہب اربعہ کے ساتھ ان کا نام کیوں نہیں لکھا ؟

خیر بات کو نظر انداز کر دیا میں نے .اسی مسجد میں کسی اور جمعے کو میں نے ایک اور چیز نوٹ کی .خطیب صاحب اپنے جوش خطابت میں انہوں نے کہا "ارے جب میرا داتا (اشارہ حضرت داتا صاحب کی طرف تھا ) یہاں تشریف لے تو یہاں سرے ہندو اور سکھہ آباد تھے ." میں نے سوچا کہ داتا صاحب تو یہاں کچھ 1000 سال قبل آیے تھے اور سکھہ مذہب تو صرف 600 -500 سال پرانا ہے .

مجھے یقین ہے ایسی باتیں ملک کی بیشمار مساجد میں ہوتی ہوں گی ،کچھ مساجد میں تو ایسی ضعیف روآیات بھی بیان کی جاتی ہیں کے جن کے مطابق نعوز باللہ خصوصا حضرت عمر کا مقام نبی صلّی الله علیھ و الھ وسلّم سے بھی بڑھا چڑھا کر دکھایا جاتا ہے،نعوز باللہ ،اور اس چیز کا با قاعدہ دفاع کیا جاتا ہے .کہیں پر حضرت غوث اعظم سرکار کا مقام صحابیوں اور ائمہ  سے بڑھا کر دکھایا جاتا ہے ،لیکن عوام بھی سنتی ہے چپ کر کے،کوئی اختلاف نہیں کرتا .کسی میں اتنی ہمّت نہیں.اگر کوئی ایک آدھا ہمّت کر ہی  لے تو اس کو گستاخ قرار  دے دیا جاتا ہے،اور عوام بھی ساری مولوی صاحب کی تایید کرتی ہے .یہ ہے قحط الرجال کی وجہ .جب ہم اختلافات کو علمی طورپر حل کرنا سیکھ لیں گے ،تو قحط االرجال ختم ہو جائے گا .جب ہم ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بجاے خود آگے نکلنا سیکھ لیں گے،تو مثلا حل ہو جائے گا.

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تقلید پسند مولویوں کے غلام بن گئے ہیں ،ہم نے علمی اور ذہنی ارتقا نہیں کیا،ہمیں دوزخ سے اتنا ڈرایا جاتا ہے کے ہم میں سے کوئی نماز کی امامت کروانا اس خوف سے پسند نہیں کرتا کہ کہیں اس کی غلطی سے باقی لوگوں کی جماعت نہ ناقص ہو جائے،خواہ کوئی نوجوان امام مسجد جو بھی غلطی کرے .

ہم میں سے ہر آدمی اپنے حال کی اصلاح کے لئے سرکارپہ  بھروسہ کرتا ہے کسی کو خود ہاتھ پیر ہلانے کی توفیق نہیں ہوتی .ہم لوگ ایک لیپ ٹاپ ،ایک ہیلمٹ ،یا 1000 ماہانہ پہ ووٹ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ،یہ نہیں سوچتے  کہ ہماری اس  حماقت  سے وہی لوگ دوبارہ بار سر اقتدار ہیں گے اور آ کر کہیں  گے کہ ہم اس گند کو پانچ سال میں نہیں سمیٹ سکتے جو پچھلی حکومت نے پھیلایا ہے .ہمارے اندر عدم برداشت اس حد تک بڑھ گیی ہے کہ اچھے خاصے  پڑھے  لکھے نوجوان اس وقت مرنے مارنے پہ آمد ہو جاتے ہیں جب کوئی آدمی ان کے سیاسی رہنما یا قاید پر اعتراض کرے.ہر جماعت کا کارکن اپنے رہنما کو پاک صاف دودھ کا دھلا دیکھتا ہے.اختلاف کی کوئی گنجایش نہیں ہوتی اس کی نظر میں.کچھ ارسا پہلے ایک پروگرام دیکھا جس میں کامران شاھد ملتان میں یوسف رضا گیللانی کے حلقہ میں گیا.وھاں ایک معقول نوجوان سے پوچھا کہ آپ علی موسیٰ گیللانی کے مقابلے میں کھڑے کیوں نہیں ہو جاتے انتخابات میں ؟اس نے جواب دیا کے ہماری تو اتنی اوقات ہی  نہیں ہے.یہ ہے ہماری ذہنی غلامی کی گہرائی .   

اگر قحط الرجال سے نکلنا ہے تو ہمیں باطل سے،جھوٹ سے اختلاف کرنا ہو گا اور اختلاف کو برداشت کرنا ہو گا،چاہے اختلاف مذہبی ہو،سیاسی ہو،یا لسانی .ہمیں خود کو قیادت سنبھالنے کے اہل بنانا ہے،اور خود کو تیار کرنا ہے قیادت سنبھالنے کے لئے. جب تک ہم روایتی قیادت پہ انحصار کرتے رہیں گے، انقلاب کا خواب صرف ایک خواب ہی  رہے گا.

28 November 2012

سیاسی جماعتیں اور فرقہ واریت

چند دن پہلے خبر سنی کہ سنی اتحاد کونسل نے مسلم لیگ قاف کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے انتخابات کے لئے تو بہت افسوس ہوا.افسوس تو اس وقت بھی ہوا تھا جب نواز شریف نے پنجاب میں اپنے وزیر قانون رانا ثنا الله کو کلعدم سپہ صحابہ کے احمد لدھیانوی کے ساتھ جلسہ کرنے پر بھی کچھ نہیں کہا تھا اور سپہ صحابہ کے نیے روپ تنظیم اہل سنّت والجماعت کی ریلی کی حمایت کی تھی

یہ ہمارے ہاں کا اب ایک المیہ بن چکا ہے کے جماعتیں نعرہ تو نظام مصطفیٰ کا لگاتی ہیں لکن پانچ سال انہی اسسیمبلیوں میں گزرتی ہیں اتحاد کر کے جن سے عالم کفر یعنی امریکا سے امداد کی وصولی کے بل منظر ہوتے ہیں 
چند سال قبل ایک واقعہ سنا تھا کے ہمارے ہاں کے ایک بہت نامی مولانا صاحب امریکا تشریف لے گئے . وہاں جناب کو کسی نے گھاس نہ ڈالی .صرف ایک سینیٹر سے ملاقات ہو سکی وہ بھی اس کے گھر میں موصوف نے ان سے ان کے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت طلب کی اور نماز پڑھی بھی (یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اگر وہی سینیٹر پاکستان میں ان کے گھر آ کر یسوع کو یاد کرنا چاہتا اپنے طریقے سے تو کیا مولانا اسے اجازت دیتے؟ یہ مولانا پاکستان آ کر یہ پروپیگنڈا کرتے رہے کہ جی ہم تو کفر کے گھر میں نماز پڑھ کر اہے  ہیں 
یہ واقعہ بیان کرنے کا یہاں مقصد  یہ ہے کہ یہ لوگ جو اوم کو مذہب کے نام پہ بیوقوف بناتے ہیں  کیا ملک کو سنبھالنے کے اہل ہیں؟

ابھی کچھ ہی دیر پہلے احسان الہی ظہیر کی ای بک پڑھ رہا تھا جس میں بریلوی
 مسلک کے بانی احمد رضا خان بریلوی کا نہایت برے طریقے سے مذاق اڑایا گیا تھا .اور افسوس کی بات یہ ہے کے موصوف کا بیٹا ابتسام الہی جمیعت اہل حدیث کا عہدے دار ہے اور کبھی اس نے آ کر اپنے باپ کے اس فعیل  کی مذمّت نہیں کی ہمیشہ خالی باتیں ہی کی ہیں 

یہاں المیہ یہ ہے کہ سب اپنے پیٹ کی پوجا میں مصروف ہیں .وہابی اور دیوبندی
 شیعہ اور بریلوی لوگوں کو کافر کہتے ہیں .بریلوی شیعہ اور دیوبندیوں کو گستاخ اور بے ادب کہتے ہیں دیوبندی وہبیوں  کو نجدی کہ کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں ال غرض ہر طرف تکفیر چل رہی ہے. اور ہر مسلک کے اندر آپسی لڑائیاں بھی چل رہی ہیں مثلا ڈاکٹر طاہر ال قادری جنہیں ایک دنیا جانتی ہے انکو ان ہی کے مسلک کے لوگ گمراہ قرار دیتے ہیں 
کیا یہ لوگ ملک سنبھالنے کے اہل ہیں؟

سب سے زیادہ  مضحکہ خیز بات یہ ہے ک ایم ایم اے دوبارہ بھال ہو گی ہے اور ایک دوسرے کو گستاخ اور کافر کہنے والے پھر سے سیاسی مفاد کے لئے اکٹھے ہو گئے ہیں کچھ لوگوں نے اسی تنظیمیں بھی بنایی ہیں جو بظاھر سب کے لئے لگتی ہیں لکن دار حقیقت کسی ایک مسلک کی بالادستی کے لئے کام کر رہی ہیں جیسے مجلس وحدت المسلمین جو شیعہ مسلک کی بالادستی کے لئے سرگرم ہے ایسی ہی ایک تنظیم ہے حزب تحریر .جو دار اصل تو  خلافت کے لئے سرگرم ہے لکن اس کے کچھ ارکان شیعہ نسل کشی میں ملوث  پاے گئے ہیں  

جماعت اسلامی کے پر تشدّد کردار سے تو سب واقف ہیں ہی مگر افسوس کی با
 ت یہ ہے کہ نواز شریف جیسا سیاستداں ان سے اتحاد کی بات کر رہا ہے تبدیلی کا نشان عمران خان طالبان کے لئے ہنرم گوشہ رکھتا ہے .الغرض یہ کہ مذہب کے نام پہ لوگوں کو بہلانا پھسلا نا سب کی مجبوری ہے  اور ہر لیڈر  اس مجبوری کا شکار ہو رہا ہے 
اور وجہ اس کی صرف ایک ہے.وہ یہ کہ ہم نے مذہب کو ایک ممنوع' شے بنا دیا ہے. ہم نے اپنے آپ پی خود حرام کر لیا ہے ہے کہ ہم نے مذہب میں غور و فکر نہیں کرنا ہم نے تاریخ اسلام نہیں پڑھنی ہم نے تفسسر اور ہدیتہ نہیں پڑھنی ہم نے تصوّف کی کتاب نہیں پڑھنی  کیوں کہ اگر ہم نے پڑھنے کی کوشش  کی تو ہم کسی غلطی کی بنا پر کافر نہ ہو جاہیں بدداتی نہ ہو جائے مشرک نہ ہو جاہیں  ہمارے گلی محلے  کے مولوی صاحبان نے بھی یہی سنا سنا کر ہمیں اس بات پی راسخ کر دیا ہے اور ہمیں عشق نبی اور عشق صحابہ کا درس دے دے کر اتنا جنونی کر دیا ہے کہ ہم ان دلیلوں کو بھی رد کر دیتے ہیں جو ہماری اپنی کتاب سے ہوں کسی اور مسلک سے نہیں ہم ذرا ذرا سی بات  پر کسی پہ   کفر کا فتویٰ لگا دیتے ہیں ہم رحمت للعالمین کی امّت ہو کر اپنے اندر برداشت پیدا نہیں کر سکتے اور اسی بات کو ہمارے مولوی صاحبان استمال کر کے ہمارا استحصال کرتے ہیں اور میں نے خود اپنی آنکھوں سے اسے لوگوں کو دیکھا ہے جنہوں نے اسلامیات میں ایم اے کر رکھا تھا مگر تاریخ اسلام سے نا واقف تھے جب کوئی واقعہ تاریخ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کے یہ ہماری تاریخ میں نہیں ہے 
اچھے خاصے پڑھے  لکھے لوگ مولویوں کاا  و عظ  سن کر دوسروں سے نفرت پال لیتے ہیں
اس کا ایک حل تو وہ تھا جو پرویز مشرّف نے تجویز کیا تھا یعنی ان رجسٹرڈ مدراسسوں کو بند کر دیا جائے لکن چونکہ اس سے فتنہ پرور مولویوں کے اپٹ پہ لات پڑتی تھی لہذا اس کی مخالفت کی گیئ اور نہ صرف ان رجسٹرڈ مدرسے  کام کر رہے ہیں بلکہ اسے مولویوں کی کھیپپ پیدا کر رہے ہیں جو منبر پر بیٹھ کر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں کریں گے ایسے ہے کچھ مدرسے پکڑے گئے تھے ماضی میں جن میں طلبہ کو اسکری تربیت دی جاتی تھی 
خیر دوسرا حل یہ ہے کہ ملک کو ترکی کی طرح کا سیکولر کا ملک بنا دیا جائے ویسا نہیں جیسا وہ 1924 میں تھا بلکہ ویسا جیسا اب ہے حقیقت یہی ہے کے سیکولر ممالک ترقی میں بہت آگے ہیں کیونکہ اگرچہ اسلام اقلیتوں کو برابر حقوق کی ضمانت دیتا ہے لکن فی زمانہ یہ ممکن نہیں کہ کسی ملک میں کسی مذہب کی بالادستی ہو اور وہاں اقلیتوں کو برابر حقوق حاصل ہوں اس کی وجہ مذھب کے پیروکاروں کا اپنے مذھب کی اصل تعلیمات سے انحراف ہے جب ملک سیکولر بن اجے گا تو کسی میں احساس کمتری نہیں رہے گا،سب ملک کترققیکے لئے زیادہ  سے زیادہ کوشسه کریں گے اور فایدہ ملک کو ہو گا. انڈیا بھی ایک سیکولر ملک ہے وہاں کی حکومت سیکولر ہونے کے باوجود مسلمان حاجیوں کو 32000 کی سبسڈی دیتی ہے حج پہ ترکی بھی ایک سیکولر ملک ہے لیکن ایشیا   کی دوسری بڑی ابھرتی ہی معیشیت بھی ہے  سیکولر ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دین پہ عمل سے روک دیا جائے گا بلکہ یہ ہے کے ہر ایک کو اپنے نظریات  رکھنے کی آزادی ہو گی 

اگرچہ یہ حل مشکل نظر  آتا ہے پاکستان کے تناظر میں لکن بتدریج اس کو رأیج کیا جا سکتا ہے اگر سیاسی جماعتیں خود مل کر متفققہ طور پی کر لیں تو فبہا اگر نہ کریں تو  شاید کبھی کوئی خاکی والا اس کو رایج کر دے جیسے مصطفیٰ کمال نے کیا تھا.بہرحال حل یہی ہے ان نفرتوں کو مٹانے کا .اس کے علاوہ کوئی حل بظاھر موجود نہیں ہے  

14 November 2012

The solution to unemployment and substandard education

I had earlier done a post on substandard education being delivered in many Private universities and consequently increasing number of not so competant graduates and hence ever increasing unemployment.I had promised to suggest a solution to these problems.the link of that post is given below so that if you have'nt read that post,you can read it.


Now i'll like to move on towards the solution.
The solution to substandard education is very simple.Federal Ministery of Sceince and Technology and Minsitery of Education should unanimously announce to close those universities which have a very small campus,not-so-good labs,substandard curriculum.And above all,there one Federal institute should be established which will be responsible for the checking of papers in country by keeping the identity of university secret (so that chances of taking bribe by paper checkers are nullified and students may not fall prey to the tussel and competition between Universitites etc).My proposed plan is that the teachers who will check the papers will not take classes in that semmester but will get full pay from that newly established Federal institue for checking.Approval from this federal institue will be necessary upon each institue to start working.Lab exams and vivas will also be conducted by Lecturers/Professors etc nominated by this institue.This will ensure a fine crop of passing graduates each year.

And Minsitery of Education and Minsitery of Science and Technology should announce a restriction to open any more engineering institues because there are already enough.Instead Minsitery of Education of each province in collaboration with Minsitery of Health and World Health Organization should open at least 2-3 New Medical Universities of International Standard and a hospitalw ith each University in each province because our country needs focus on health facilities and at present we are lagging behind the point where we should be.As per my knowledge foreign countries dont acknowledge our doctors except thsoe from 2 or 3 institutes and our doctors have to go abroad to do theri specialization.Why dont we establish a few institues of international standard which may offer the specialization of international standard? .So,setting up new universities and hospitals will improve the health condition of the public and will improve the standard of medical education in Paksitan.

My plan for the end of unemployment is that government should create new vaccancies and no employee should be given a permanent job because what happens in Pakistan is that after a person gets a permanent job,he becomes relax that no one can fire me and thus he starts to shirk work,leaves office earlier than the official time etc etc.Thus new job notifications should be for 3 years only and at the end of contract the performance of each employee should be judged.If found satisfactory,he should be promoted to the next scale ,otherwise he should be fired and new recruitments should be made.

And an internship programme for 1 year duration should be started so that when fresh graduates will finsih their internships ,they will have an opportunity to get employed in some government institue.
It should be also noted that fore-mentioned steps to improve the standard of education will themselves create thousands of enw vaccancies as well.

This scheme ensures a guaranteed significant reduction in unemployment.Although i am not a political worker of any party uptill now,neither i am biased towards any particular party,yet i am suggesting these solutions because the benefit is of Paksitan and i dont care whether i get any credit for that or not.I am sure that  there exist many  wiser men than me who can give better ideas and suggestions to their parties and they do,but their parties rule out their advices.Therefore i have opted blogging as a mean to spread awareness among the public.

12 November 2012

Declining standard of education

A series of peaceful protests were conducted when HEC was dissolved.Much was said on both Print and electronic media about tha tissue.But honestly speaking i think that HEC and other institutes which are responsible for maintaining the standard of education e.g PEC have'nt done anything considerable to maintain the standard of education .

Now-a-days there are so many private univeristies in the whole country specially in Lahore and Islamabad.Many of these universities have a very small campus,just a nominal campus i would say.Tution fees are quite high because those who fail to get admission anywhere get enrolled in these universities and pass out as graduates.A few years back there came a trend in our country that those young individuals who were'nt worthy of doing anything else,they started to do I.Com and then B.Com throught these private institutes,as a result we have thousands of unemployed graduates of commerce.

Since there was no one to check that what is the quality of education being delivered to the youth,the education mafia got encouraged and started to open engineering institutes as well.and i am very sorry to mention that PEC did'nt do anything to get these institues banned or closed,neither did the government take notice.
Small scale universities like Hajveri University,Hamdard univeristy,Wah Univeristy,Iqra Univeristy,Bahria University,University of Central Punjab,Superior Unviersity,University of Lahore  etc etc have started offering Engineering programmes.Comsats and Fast were already offering these programmes through their campuses in different cities.

Every university which is opening its campuses is offering B.COm/BBA/MBA.It seems that these three courses are a must for a university to star.Not only that,But Punajb University ahs introduced dozens of new courses which seem quite strange to       ears and apparently their is no need to start such courses.Some courses which were a sub-domain of a course have now been started as a separate course.

Due to these above mentioned reasons the number of graduates has been increasing each year and our population is being flooded with graduates who do'nt even know how to pronounce the evry basic and simple words of English correctly.This si the irony and tragedy of our nation.And when these literate-illiterates compete for jobs,they use references ,approach and bribe to get their job confirmed .As a result well mannered and well groomed candidates with brilliant academic backgrounds suffer.Our nation has fallen to such low standards that now-a-days even private firms are'nt ready to give jobs without reference and approach.
In such a condition can we expect prosperity?

 The sadder and darker part of all this is that if some institution ever took a step against this in future,media and some pseudo-journalists would make noise that this is a step to stop the chain of education.But i request rather appeal all repsonsible citizens of Pakistan to raise voice agains tthese sub-standard institues where asset of the antion si being wasted.They are not being groomed well,neither quality education is being given to them.

I'll inshaAllah try to present the solution to unemployment and this problem in some other post.........