Showing posts with label Better Pakistan. Show all posts
Showing posts with label Better Pakistan. Show all posts

28 November 2012

سیاسی جماعتیں اور فرقہ واریت

چند دن پہلے خبر سنی کہ سنی اتحاد کونسل نے مسلم لیگ قاف کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے انتخابات کے لئے تو بہت افسوس ہوا.افسوس تو اس وقت بھی ہوا تھا جب نواز شریف نے پنجاب میں اپنے وزیر قانون رانا ثنا الله کو کلعدم سپہ صحابہ کے احمد لدھیانوی کے ساتھ جلسہ کرنے پر بھی کچھ نہیں کہا تھا اور سپہ صحابہ کے نیے روپ تنظیم اہل سنّت والجماعت کی ریلی کی حمایت کی تھی

یہ ہمارے ہاں کا اب ایک المیہ بن چکا ہے کے جماعتیں نعرہ تو نظام مصطفیٰ کا لگاتی ہیں لکن پانچ سال انہی اسسیمبلیوں میں گزرتی ہیں اتحاد کر کے جن سے عالم کفر یعنی امریکا سے امداد کی وصولی کے بل منظر ہوتے ہیں 
چند سال قبل ایک واقعہ سنا تھا کے ہمارے ہاں کے ایک بہت نامی مولانا صاحب امریکا تشریف لے گئے . وہاں جناب کو کسی نے گھاس نہ ڈالی .صرف ایک سینیٹر سے ملاقات ہو سکی وہ بھی اس کے گھر میں موصوف نے ان سے ان کے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت طلب کی اور نماز پڑھی بھی (یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اگر وہی سینیٹر پاکستان میں ان کے گھر آ کر یسوع کو یاد کرنا چاہتا اپنے طریقے سے تو کیا مولانا اسے اجازت دیتے؟ یہ مولانا پاکستان آ کر یہ پروپیگنڈا کرتے رہے کہ جی ہم تو کفر کے گھر میں نماز پڑھ کر اہے  ہیں 
یہ واقعہ بیان کرنے کا یہاں مقصد  یہ ہے کہ یہ لوگ جو اوم کو مذہب کے نام پہ بیوقوف بناتے ہیں  کیا ملک کو سنبھالنے کے اہل ہیں؟

ابھی کچھ ہی دیر پہلے احسان الہی ظہیر کی ای بک پڑھ رہا تھا جس میں بریلوی
 مسلک کے بانی احمد رضا خان بریلوی کا نہایت برے طریقے سے مذاق اڑایا گیا تھا .اور افسوس کی بات یہ ہے کے موصوف کا بیٹا ابتسام الہی جمیعت اہل حدیث کا عہدے دار ہے اور کبھی اس نے آ کر اپنے باپ کے اس فعیل  کی مذمّت نہیں کی ہمیشہ خالی باتیں ہی کی ہیں 

یہاں المیہ یہ ہے کہ سب اپنے پیٹ کی پوجا میں مصروف ہیں .وہابی اور دیوبندی
 شیعہ اور بریلوی لوگوں کو کافر کہتے ہیں .بریلوی شیعہ اور دیوبندیوں کو گستاخ اور بے ادب کہتے ہیں دیوبندی وہبیوں  کو نجدی کہ کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں ال غرض ہر طرف تکفیر چل رہی ہے. اور ہر مسلک کے اندر آپسی لڑائیاں بھی چل رہی ہیں مثلا ڈاکٹر طاہر ال قادری جنہیں ایک دنیا جانتی ہے انکو ان ہی کے مسلک کے لوگ گمراہ قرار دیتے ہیں 
کیا یہ لوگ ملک سنبھالنے کے اہل ہیں؟

سب سے زیادہ  مضحکہ خیز بات یہ ہے ک ایم ایم اے دوبارہ بھال ہو گی ہے اور ایک دوسرے کو گستاخ اور کافر کہنے والے پھر سے سیاسی مفاد کے لئے اکٹھے ہو گئے ہیں کچھ لوگوں نے اسی تنظیمیں بھی بنایی ہیں جو بظاھر سب کے لئے لگتی ہیں لکن دار حقیقت کسی ایک مسلک کی بالادستی کے لئے کام کر رہی ہیں جیسے مجلس وحدت المسلمین جو شیعہ مسلک کی بالادستی کے لئے سرگرم ہے ایسی ہی ایک تنظیم ہے حزب تحریر .جو دار اصل تو  خلافت کے لئے سرگرم ہے لکن اس کے کچھ ارکان شیعہ نسل کشی میں ملوث  پاے گئے ہیں  

جماعت اسلامی کے پر تشدّد کردار سے تو سب واقف ہیں ہی مگر افسوس کی با
 ت یہ ہے کہ نواز شریف جیسا سیاستداں ان سے اتحاد کی بات کر رہا ہے تبدیلی کا نشان عمران خان طالبان کے لئے ہنرم گوشہ رکھتا ہے .الغرض یہ کہ مذہب کے نام پہ لوگوں کو بہلانا پھسلا نا سب کی مجبوری ہے  اور ہر لیڈر  اس مجبوری کا شکار ہو رہا ہے 
اور وجہ اس کی صرف ایک ہے.وہ یہ کہ ہم نے مذہب کو ایک ممنوع' شے بنا دیا ہے. ہم نے اپنے آپ پی خود حرام کر لیا ہے ہے کہ ہم نے مذہب میں غور و فکر نہیں کرنا ہم نے تاریخ اسلام نہیں پڑھنی ہم نے تفسسر اور ہدیتہ نہیں پڑھنی ہم نے تصوّف کی کتاب نہیں پڑھنی  کیوں کہ اگر ہم نے پڑھنے کی کوشش  کی تو ہم کسی غلطی کی بنا پر کافر نہ ہو جاہیں بدداتی نہ ہو جائے مشرک نہ ہو جاہیں  ہمارے گلی محلے  کے مولوی صاحبان نے بھی یہی سنا سنا کر ہمیں اس بات پی راسخ کر دیا ہے اور ہمیں عشق نبی اور عشق صحابہ کا درس دے دے کر اتنا جنونی کر دیا ہے کہ ہم ان دلیلوں کو بھی رد کر دیتے ہیں جو ہماری اپنی کتاب سے ہوں کسی اور مسلک سے نہیں ہم ذرا ذرا سی بات  پر کسی پہ   کفر کا فتویٰ لگا دیتے ہیں ہم رحمت للعالمین کی امّت ہو کر اپنے اندر برداشت پیدا نہیں کر سکتے اور اسی بات کو ہمارے مولوی صاحبان استمال کر کے ہمارا استحصال کرتے ہیں اور میں نے خود اپنی آنکھوں سے اسے لوگوں کو دیکھا ہے جنہوں نے اسلامیات میں ایم اے کر رکھا تھا مگر تاریخ اسلام سے نا واقف تھے جب کوئی واقعہ تاریخ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کے یہ ہماری تاریخ میں نہیں ہے 
اچھے خاصے پڑھے  لکھے لوگ مولویوں کاا  و عظ  سن کر دوسروں سے نفرت پال لیتے ہیں
اس کا ایک حل تو وہ تھا جو پرویز مشرّف نے تجویز کیا تھا یعنی ان رجسٹرڈ مدراسسوں کو بند کر دیا جائے لکن چونکہ اس سے فتنہ پرور مولویوں کے اپٹ پہ لات پڑتی تھی لہذا اس کی مخالفت کی گیئ اور نہ صرف ان رجسٹرڈ مدرسے  کام کر رہے ہیں بلکہ اسے مولویوں کی کھیپپ پیدا کر رہے ہیں جو منبر پر بیٹھ کر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں کریں گے ایسے ہے کچھ مدرسے پکڑے گئے تھے ماضی میں جن میں طلبہ کو اسکری تربیت دی جاتی تھی 
خیر دوسرا حل یہ ہے کہ ملک کو ترکی کی طرح کا سیکولر کا ملک بنا دیا جائے ویسا نہیں جیسا وہ 1924 میں تھا بلکہ ویسا جیسا اب ہے حقیقت یہی ہے کے سیکولر ممالک ترقی میں بہت آگے ہیں کیونکہ اگرچہ اسلام اقلیتوں کو برابر حقوق کی ضمانت دیتا ہے لکن فی زمانہ یہ ممکن نہیں کہ کسی ملک میں کسی مذہب کی بالادستی ہو اور وہاں اقلیتوں کو برابر حقوق حاصل ہوں اس کی وجہ مذھب کے پیروکاروں کا اپنے مذھب کی اصل تعلیمات سے انحراف ہے جب ملک سیکولر بن اجے گا تو کسی میں احساس کمتری نہیں رہے گا،سب ملک کترققیکے لئے زیادہ  سے زیادہ کوشسه کریں گے اور فایدہ ملک کو ہو گا. انڈیا بھی ایک سیکولر ملک ہے وہاں کی حکومت سیکولر ہونے کے باوجود مسلمان حاجیوں کو 32000 کی سبسڈی دیتی ہے حج پہ ترکی بھی ایک سیکولر ملک ہے لیکن ایشیا   کی دوسری بڑی ابھرتی ہی معیشیت بھی ہے  سیکولر ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دین پہ عمل سے روک دیا جائے گا بلکہ یہ ہے کے ہر ایک کو اپنے نظریات  رکھنے کی آزادی ہو گی 

اگرچہ یہ حل مشکل نظر  آتا ہے پاکستان کے تناظر میں لکن بتدریج اس کو رأیج کیا جا سکتا ہے اگر سیاسی جماعتیں خود مل کر متفققہ طور پی کر لیں تو فبہا اگر نہ کریں تو  شاید کبھی کوئی خاکی والا اس کو رایج کر دے جیسے مصطفیٰ کمال نے کیا تھا.بہرحال حل یہی ہے ان نفرتوں کو مٹانے کا .اس کے علاوہ کوئی حل بظاھر موجود نہیں ہے  

09 November 2012

2 party system - beneficial or not?

Since last 10 years a debate has been going on in our country that whetehr 2 aprty system is int he benefit or emergence of additional choices is better for Pakistan.

I have been  witnessing Pakistani politics only since last 9-10 years.One thing's for sure that chances are nil for any party to gain simple or 2/3 majority by transparent means now and apparently there is'nt any chance of army's intervention any more in the near future.It means that we'll see a hung parliament in future.


SInce i have witnessed 2 parliaments completing their tenure and both of them were hung.Both of them faced charges of corruption.Although the one under dictatorship faced less serious charges than the current one.

Fazl ur Rehman

Altaf Hussain


WE have seen PPP's recent government being blackmailed by MQM,ANP and JUI etc on different issues.All these have been blackmailing PPP to get their demands fulfilled.Same for the PML-Q which joined PPP just to get Munis Ilahi free of charges.
munis Ilahi

Although if we look back,we'll find corruption in two party system as well.But since 2003,circumstances have changed very much.
Independant judiciary and independant media have made people aware of their rights and of what is going on in the country.Moreover,if media tries to cover some party or politician or any issue,social media unveils it.

So, if Judiciary keeps doing its job as much independantly as it is doing now but boosts the speed to deal with the thousands of the pending cases and army does'nt interfere any more,hung parliament is in broader benefit of Pakistan.Judiciary's performance has been satisfactory over alst 4,5 years.Be it rental power case,be it NRO case,be it Bhutto's trial case,be it Asghar Khan case,be it CNG case,supreme court has been superb.But yet there are some cases such as Karachi chaos case,Balochistan case and above all Arsalan Iftikhar case where judiciary seems to be playing on back foot and it is being criticez the most on Arsalan Iftikhar case.Arsalan Iftikhar seems to be getting favours from investigating authorities one after another.Judges of supreme court should deal this case fairly ,otherwise everyone will criticize judiciary of giving relief to Chief Justice's son and will demand the same for his own kins..........

If these few concerns of public,politicians and media are removed,judiciary will get maximum support from public and even a hung parliament wo'nt be hurdle in the road to a better or prosper Pakistan.

08 November 2012

Green Pakistan

Yesterday i was watching a news channel and there was no bound of my delight when i came to know that Fauji Fertilizers has installed the country's first ever WInd Turbine for power generation.The capacity of this project is 50 MW.This news is like a cool breeze for our country which is already facing eenrgy crisis and has to import furnace oil to generate power from thermal powerplants .What adds to my delight is that 27 out of 33 turbines and rotors are locally manufactured as per told by one of Fauji Fertilizers official.

Wind Energy Potential in Paksitan
You will be shocked to know that the wind map developed by National Renewable Energy Laboratory (NREL), USA in collaboration with USAID, has indicated a potential of 3,46,000 MW in Pakistan.
The Gharo-Keti Bandar wind corridor spreading 60 KM along the coastline of Sind Province and more than 170 km deep towards the land alone has a potential of approximately 50,000 MW.
30% ~ 32% Capacity Factor estimated in Gharo -Keti Bandar area.
Wind resource in Gharo ~ Keti Bandar wind corridor validated by RisO DTU National Laboratory,Denmark

Solar Energy Potential
I being a Meachanical Engineer know that Potential of power generation by use of Solar Energy is some 40,000 MW in Paksitan.this means that Pakistan can produce a total of 3,86,000 MW green energy whereas our demand of energy at present is some 30,000 MW (at maximum).

Long term planning to overcome energy crisis
So if we start power generation as afore-mentioned ,we'll be not only fulfilling our energy need but we'll be able to earn revenue  by exporting it to neighbour countries. 

Additional benefits
if such projects are approved and registered by the governmenet of the country in which these are installed,Clean Development Mechanism Programme issues a CER value (Certified Emission Reduction Value) to that project.
CER credits then can be traded intenationally against money.CER is actually the maount of emissions which would have polluted the atmosphere if the same amount of electricity was to be produced by thermal energy.
For example, 1 MW of electricity production from thermal energy takes some 3.5 tonnes of coal or 10.5 tonnes of CO2 consequently.but prodcuing 1 MW from solar energy or wind energy for the same time would actually mean reduction of 10.5 tonnes.
These amounts end up in metric tonnes when we talk about annual power generation,and in October 2012  prices of CER were 1.36 euros per metric ton of CER.

In short,the money you can earn by generating green energy and hence trading CER can not only cover the fabrication,installation and transportation cost within 1-2 years but can actually start earning you profit.So,we must install green energy projects as much as we can if we are inteersted in developing long term plans for the country.