Showing posts with label PMLN. Show all posts
Showing posts with label PMLN. Show all posts

21 December 2015

مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور سرکاری اداروں کا زوال

السلام علیکم !دوستو ، ساتھیو گو کہ میں ایسے اتفاقات کا قائل نہیں مگر پھر بھی کبھی کبھی یہ سوچنے پر مجبور ضرور ہوتا ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جب بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت پاکستان میں آتی ہے، صنعتی ادارے زوال کا شکار ضرور ہوتے ہیں؟ گو کہ زوال یا بحران کا آنا جانا کسی خاص فرد یا جماعت کی حکومت سے مشروط نہیں اور ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے دور میں بھی اداروں پر بحران آئے مگر پیپلز پارٹی نے ایک مزدور دوست حکومت ہونے کے ناطے ان بحرانوں سے نمٹنے کی بھرپور کوشش کی.آج حالات یہ ہیں کہ ملک کے کیی بڑے سرکاری صنعتی ادارے مثلا ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس ، ہیوی مکینکل کمپلیکس ، پاکستان سٹیل ملز، پاکستان مشین ٹول فیکٹری وغیرہ شدید مالی بحران سے  گزر رہے ہیں. پاکستان مشین ٹول فیکٹری میں گزشتہ ٣ ماہ سے ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملی تھیں. اب جبکہ میں یہ سطور  لکھ رہا ہوں تو یہ افواہ میرے پیش نظر ہے کہ پاکستان مشین ٹول کا انتظام سٹریٹجک پلاننگ ڈویزن سنبھالنے لگا ہے. ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس شدید بحران کا شکار تھا اس کی نجکاری اونے پونے داموں کر دی گیی مگر شومیی قسمت کہ خریدنے والی کمپنی کا چیک باونس ہو گیا. گویا                    

              پلے نیئں دھیلہ تے کردی میلہ میلہ


 اسی طرح ملک میں صنعتوں سے متعلقہ سامان بنانے کے سب سے بڑے ادارے ہیوی مکینکل کمپلیکس میں بھی ملازمین کو ٣ ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں ، پنشنرز کو پنشن نہیں مل رہی. سٹیل ملز کو بھی وقتا فوقتا بیل آوٹ پیکج کے انجکشن لگائے جاتے ہیں تبھی وہ کچھ سانسیں لے پاتی ہے.برس ہا برس سے ان اداروں کی اپ گریڈیشن  نہیں کی گیی ، فنڈز کی ادائیگی میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں ، ٹاپ مینجمنٹ کا احتساب کرنے والا کوئی نہیں جس کی وجہ سے بات یہاں تک پہنچی ہے. ان اداروں میں کام کرنے والے انجینیرز کی تنخواہیں اور مراعات بھی بہت کم ہیں.آپ شاید یقین نہ کریں مگر تنخواہیں بعض نان-ٹیکنیکل محکموں کے سترھویں سکیل کے آفیسر کی تنخواہ سے بھی کم ہیں.کیا ایک سترھویں سکیل کے انجینیر کی تنخواہ ٣٥،٠٠٠-٤٠،٠٠٠ کافی ہے جبکہ دیگر وفاقی محکموں میں اتنی تنخواہ گریڈ ١٤ اور ١٦ کے نان-تیکنل لوگ لے رہے ہوں ؟ مذکورہ اداروں میں میڈیکل ، انشورنس ، رہائش وغیرہ کا نظام  بھی بہت ناقص ہے. ایسے میں دلبرداشتہ انجینیرز ملک چھوڑ جانے کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر پرائیویٹ سیکٹر میں کیونکہ یہاں ان کے درد کا، شکایات کا مداوا کوئی نہیں کرتا. اس پر ستم ظریفی یہ کہ موجودہ حکومت نے 'اونٹ کے منہ میں زیرہ' کے مصداق صرف ٧% اضافہ کیا ہے بنیادی تنخواہ میں.ان حالات کے سبب انجینیرز اور ملک کے ہونہار دماغ اپنا معاشی مستقبل محفوظ کرنے کی غرض سے ملک چھوڑ کر دھڑادھڑ خلیجی ممالک میں جا رہے ہیں. حکومت کو اس بارے بھی سنجیدگی سے سوچنا چاہیے.


اسی طرح ان اداروں میں ورکرز کی ایک اچھی خاصی تعداد ڈیلی ویجز پر کام کر رہی ہے. اپنی جان ہتھیلی پر رخ کر کام کرنے والے ورکرز کو اپنے مستقبل کی کوئی گارنٹی نہیں اور صرف ١٠،٠٠٠-١٢،٠٠٠ تنخواہ پر یہ لوگ انتہائی خطرناک کام سرانجام دے رہے ہوتے ہیں مگر تنخواہ انہیں بھی وقت پر نہیں ملتی اور اس قلیل سی رقم کیلئے بھی ٣،٣ ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے. ڈیوٹی کے دوران اگر ڈیلی ویجز والے کسی ورکر کی وفات ہو جائے حادثے سے تو اس کیلئے کوئی پالیسی بھی نہیں ، جو انتظامیہ کا دل کرے دے دے ، اور چاہے تو صرف دعا مغفرت پر ہی ٹرخا دے.

 اس کے علاوہ ایک اور فیکٹر جو اہم ہے وہ ہے پیپرا رولز کا. ان سب سرکاری اداروں کو پیپرا رولز کے تحت چلنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ان کو بولی جیتنے میں بہت مشکل ہوتی ہے  اور آرڈر پورا کرنے میں بہت دیر لگتی ہے اور اس چیز کا فائدہ ان کے پرائیویٹ سیکٹر کے حریف اٹھاتے ہیں. نتیجتا ان اداروں کو آرڈر نہیں مل پاتے اور مالی بحران شدید ہو جاتا ہے. اگر وزارت صنعت و پیداوار ان اداروں کو نہیں چلا سکتی تو ان سب کے سب اداروں کا انتظام و انصرام سٹریٹجک پلاننگ ڈویژن کو دے دیں ، وہ لوگ جہاں اتنے ادارے چلا رہے ہیں دو چار اور بھی چلا لیں گے.  

اب تو صرف دعا کر سکتے ہیں کہ ایوان ہائے اقتدار میں سے کوئی باضمیر شخصیت ان اداروں کی زبوں حالی کا معاملہ مقتدر حلقوں کے سامنے اٹھائے، اور ان اداروں کی مضبوطی اور ان میں کام کرنے والے ورکرز کے معاشی تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں ورنہ پھر جو صنعتی ترقی کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کا جو کام  ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کیا تھا ، اس کو بہت جلد ریورس گئیر لگ جائے گا.

(املا کی اغلاط سے درگزر فرمائیے گا کہ تنگی وقت کے سبب اس پر نظر ثانی کا وقت نہیں ملا )

06 April 2015

غیر مہذب ، غیر سیاسی کون ؟

شلواریں گیلی ہو جاتی ہیں 
پیشاب نکل جائے 
چور، ڈاکو، بے غیرت، قاتل ، لٹیرے
اپنے ہاتھوں سے پھانسی دوں گا 
پھینٹا لگے گا 

یہ سب وہ ہے جو عمران خان کہتا تھا 



کمی، کمینے، چور، لٹیرے ....... پورے ملک کو آگ لگا دوں گا 
یہ عمران خان کا جگر شیخ رشید کہتا تھا 



شرم کرو ، حیا کرو 
یہ وہ ہے جو خواجہ آصف نے آج تحریک انصاف کو کہا ہے 


اور پھر بھی ہنگامہ بپا ہے تو خواجہ آصف کے الفاظ پر ؟
پھر یار دوست ناراض ہوتے ہیں کہ تحریک انصاف کو برگر پارٹی کیوں کہتے ہیں؟ جو سیاسی مصائب بینظیر ، زرداری ، گیلانی ، جاوید ہاشمی نےمشرف کے ایام میں اور اس سے پہلے  کاٹے ہیں تحریک انصاف کا کوئی رہنما اس کا عشر عشیر برداشت کرنے کا بھی تصور نہیں کر سکتا ......... بینظیر کی ہمت دیکھو کہ عورت ہو کر ایک تنگ نظر معاشرے میں ناصرف ملا کی مخالفت میں سیاست کی بلکہ بدترین کردار کشی کا مقابلہ بھی ڈٹ کر کیا.
زرداری کو شہباز شریف مداری کہتا رہا، اپنے ہاتھوں سے پھانسی لگانے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کا کہتا رہا مگر بالاخر کون پسپا ہوا ،اور کون تحمل کے مظاہرے کے سبب کامیاب رہا ، سب نے دیکھا !

بحث سمیٹنے کو فقط اتنا ہی کہوں گا کہ  پاک و ہند میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم ، سیاست کرنے کیلئے دل گردہ چاہیے ہوتا ہے جو کہ تحریک انصاف کے لیڈرز میں نہیں ...انہیں چاہیے کہ جا کر اپنی گدیاں اور کاروبار سنبھالیں .   


04 September 2014

بھارت سے موازنہ

کچھ عرصہ  پہلے  ملک میں چینی اور آٹے  کا بحران آیا تو ن لیگی سپورٹرز نے ایک نیی منطق تراشی کہ اس وقت بھی پاکستان میں آٹا  تمام ہمسایہ ممالک سے سستا مل رہا ہے.یہ لاجک تراشتے ہوئے انہیں بجلی اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں کے موازنے کی جرات نہیں ہوئی.حقیقت حالانکہ یہ ہے کہ بھارت کی کچھ ریاستوں میں سرکار رعایتی  نرخوں پر چاول اور آٹے کی فراہمی یقینی بناتی ہے تفصیل جس کی یہ ہے کہ چاول تین روپے فی کلو اور آٹا  دو روپے فی کلو کے حساب سے مستحق خاندانوں میں بانٹا جاتا ہے اور ایک خاندان کو ماہانہ ٣٥ کلو تک راشن رعایتی  نرخوں پر ملتا ہے.
ابھی جو عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنے کے سبب جو نیا سیاسی بحران آیا ہے، اس پر ن لیگی سوشل میڈیا پر اور روزمرہ زندگی میں بھی پاک فوج  پر تبرے کر رہے ہیں کہ بھارت اتنا بڑا ملک ہے وہاں کبھی آرمی نے مداخلت کیوں نہیں کی ؟وہاں تو آرمی کے تین چیفس کے کورٹ مارشل ہوئے ہیں، وہاں ریٹائرڈ جرنیل چھ بائی  آٹھ کی دکان چلاتے ہیں وغیرہ وغیرہ.تو اس کا جواب بہت سادہ ہے اور وہ یہ ہے کہ بھارت کی آرمی دس لاکھ کے قریب ہے جبکہ ہماری سات لاکھ کے قریب لیکن بھارت کا رقبہ ہم سے ساڑھے  چار گنا ہے اور پاکستان میں تو صرف ایک طالبان کی تحریک اور بلوچستان تحریک چل رہی ہے، بھارت میں بیس کے لگ بھگ مضبوط تحاریک چل رہی ہیں جن میں آسام ، ناگا لینڈ، چھتیس گڑھ وغیرہ کی تحاریک زیادہ قابل ذکر ہیں.اس کے علاوہ جموں و کشمیر جو متنازعہ علاقہ ہے،وہاں بھی ایک بڑی تعداد تعینات ہے فوج کی.یہ مختلف تحاریک کس قدر مضبوط ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ ایک ریاست کا وزیراعلی ان شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہو چکا.لہذا ایک تو بھارتی آرمی بہت زیادہ  محاذوں پر مصروف ہے اندرونی بھی اور سرحدی بھی.تو جو باقی نفری بچتی ہے وہ اس قدر نہیں ہے کہ مختلف ریاستوں میں ممکنہ فوجی مداخلت کے خلاف ہونے والے احتجاجوں کو دبا سکے.ورنہ بقول شاعر :
  ہر دل میں ارماں ہوتے تو ہیں، بس کوئی سمجھے ذرا 
پٹواریوں سے عرض ہے کہ موازنہ کریں تو پھر اسباب کا بھی موازنہ کریں.وہاں پر اختیارات کی تقسیم کا کیا عالم ہے اور یہاں کیا حال ہے.وہاں صوبوں کی تقسیم پر یہاں کی طرح کسی کو مروڑ نہیں اٹھتے.سوا ارب انسانوں کے سمندر کی ضروریات کیلئے کھینچ تان کر بجٹ نکالنے کے بعد ویسے بھی بھارت  سرکار کے پاس اتنا کچھ نہیں بچتا ہو گا کہ وہ فوج کو اراضی الاٹ کر سکے.جس کا نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ کیا نکلنا ہے، یہ ہیں مختصر سے اسباب کہ کیوں بھارت میں مداخلت نہیں کرتی فوج اور کیوں وہاں فوجی جرنیل ریٹائرمنٹ کے بعد دکانیں چلانے پر مجبور ہیں   

02 September 2014

تباہی ناگزیر ہے

آج جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں، اسلام آباد میں طاہر القادری اور عمران خان کے دھرنے کو اٹھارہ دن ہو چکے ہیں.
عمران خان کا مطالبہ وزیر اعظم نواز  شریف  کا استعفیٰ ہے جبکہ طاہر القادری ایک جامع انقلابی پیکج کی بات کرتے  آئے ہیں جس میں  صوبوں کی  تقسیم، غریبوں کو ارزاں نرخوں پر راشن اور بجلی کی فراہمی، بے روزگاروں کو الاونس اور بلدیاتی انتخابات وغیرہ شامل ہیں،.علاوہ ازیں وہ تکفیریت  کے خاتمے کی بات کرتے ہیں جس کی وجہ سے دیوبندی  حضرات بہت جزبجز ہیں .... اسی وجہ سے میں طاہر القادری کے ایجنڈے کا حامی ہوں کہ وہ ایک جامع اصلاحاتی پیکج کی بات کر رہا ہے
آج مورخہ دو ستمبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کی فرمایش پر سینیٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس ہو رہا ہے.ن لیگ نے یہ اجلاس بلایا ہے اور اب اس ملک کو نوچ کھسوٹ کر کھانے والے سب لوگ آئین و جمہوریت کی بالادستی کی بات کر رہے ہیں کیونکہ یہ نہیں چاہتے کہ اس ملک میں احتساب کا کوئی نظام آ جائے.ان کی منشا یہی ہے کہ یہی گلا سڑا نظام چلتا رہے جس میں اول تو کسی کو کوئی سزا نہیں ہوتی اور ہو بھی جائے تو صدر کے ایک اشارے سے سات خون معاف ہو جاتے ہیں.
ایل پی جی کے ٹھیکوں سے مال بنانے والا اعتزاز احسن کس لئے جمہوریت کا ساتھ دے رہا ہے ، سب جانتے ہیں.اپنے بھائی کو گورنر بنوانے والا محمود اچکزئی جو کبھی بلوچستان سے پختوں علاقے الگ کر کے ایک نیا صوبہ  بنانے کا مطالبہ کرتا تھا ، وہ  کیوں جمہوریت کے ساتھ کھڑا ہے کسی سے دھکا چھپا نہیں.
ق لیگ تقریباً ختم ہو چکی، پیپلز پارٹی تہیہ کر چکی کہ ہم نے سندھ پر ہی اکتفا کرنا ہے ایسے میں پنجاب اور پختونخواہ کے ہزارہ  ڈویژن کو ن کے حوالے کر دیا گیا ہے.عہد و پیمان باندھ لئے گیۓ ہیں کہ تم ہم سے چشم پوشی کرنا، ہم تم سے کریں گے.مل کر کھائیں پییں گے، اس پاگل عوام کو انہی سیاسی نعروں کا اسیر بنا کر رکھیں گے. ایسے میں تکفیریت اور اس بوسیدہ سیاسی اور انتظامی نظام کے خلاف طاہر القادری آخری آواز ہے.اگر اس کی تحریک کے نتیجے میں یہ نظام تبدیل نہ ہوا. تو عوام کیلئے تباہی ہی تباہی ہے.
سانحہ ماڈل ٹاون کے چودہ قتل کا معاملہ بھی دب جائے گا اور تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے جو کرکنان پنجاب بھر میں قید کر لئے گئے ہیں، ان پر قیامت ڈھائی جائے گی.تکفیریوں کے ایجنڈے پر قائم  یہ حکومت مزید کھل کر اپنا کھیل کھیلے گی.میڈیا کے کچھ بااثر رائے ساز افراد حکومت کی دلالی کرتے رہیں گے اور عوام کو سب اچھا ہونے کا یقین دلاتے رہیں گے اور ملک خدانخواستہ ٹی بی کے مریض کی طرح کھانس کھانس کر مر جائے گا.یقین نہیں آتا تو وہ خبریں پڑھ لیجئے کہ بلوچستان میں داعش کیلئے خیر مقدمی کلمات لکھے جا رہے ہیں، اور پشتو میں داعش کے کتابچے شائع ہو رہے ہیں اور  پشاور میں مقیم افغان مہاجرین میں بانٹے جا رہے ہیں ........  


01 September 2014

ایک &%$# آدمی ....ہاشمی ہاشمی

مجھے جاوید ہاشمی کا کردار مشکوک لگ رہا ہے 
یہ شخص جماعت اسلامی سے چھوڑ کر آمر کے کندھے پر اسمبلی میں آیا 
فوج سے پیسے لے کر اسلامی جمہوری اتحاد میں گیا 
پھر اس تعلق کو نبھانے کیلئے ن لیگ میں گیا 
تحریک انصاف میں گیا تو پھر الزام لگا کہ آئی ایس آئی کی ایما پر گیا ہے 
دھرنے سے پہلے اور دھرنے کے دوران پندرہ دن تک اسے کچھ عجیب یا غلط نہیں لگا 
اچانک اس نے اپنی ہی باتوں کی نفی کرتے ہوئے تحریک انصاف پر فوج سے روابط کا الزام لگا دیا 
اب اس ماضی کے ریکارڈ کی روشنی میں تو اسے جمہوریت کا چمپین یا اصول پسند سیاستدان ہرگز نہیں کہا جا سکتا 
سوال یہ ہے کہ فوج کی نیت ہو کچھ کرنے کی تو دو تین دن ہی کافی ہوتے ہیں، فوج نے سترہ دن سے کچھ نہیں کیا باوجود اس کے کہ نواز شریف نے پارلیمنٹ میں آرمی چیف کی بابت جھوٹ بولا اور بار بار ایسا تاثر دیا کہ فوج اس سب کے پیچھے ہے.کچھ دیگر ن لیگی وزرا نے یہ تاثر دیا کہ یہ سب مشرف کیس کی وجہ سے ہے.ایسے حالات میں شریف سے شریف انسان بھی جھنجھلا کر جوابی حملہ کرتا ہے مگر فوج نے ابھی تک یہ نہیں کیا....... اس کا مطلب یہ ہے کہ ن نے کچھ غلطیاں کی ہیں مگر ہاشمی کی صورت میں کم از کم ایک پتا سمجھداری سے کھیل گیۓ ہیں وہ . 
 رہا سوال یہ کہ کیا فوج اسکے پیچھے ہے  تو بھئی فوج نے جب آنا ہوتا ہے تو 'صحت و صفائی کی صورتحال' کا جائزہ لینے کے بہانے بھی آ جاتی ہے تو یہاں تو  چکے ہیں دھرنے کو ، آرمی چیف کے مطلق پارلیمینٹ  میں جھوٹ بولے جا رہے ہیں، پی ٹی  وی پر چند منٹ کیلئے قبضہ ہو گیا، اس قبضے کیلئے آرمی کو الزام دیا گیا مگر آرمی پھر بھی حکومت کو باہر کرنے کیلئے نہیں آئی...... اس سب سے تو یہی لگتا ہے کہ آرمی کا آنے کا کوئی ارادہ نہیں البتہ اگر ان سیاستدانوں نے آرمی کو یونہی چیونٹی کی طرح بار بار کاٹ کر مجبور کیا تو پھر 'کیڑی کو ٹھڈا جائز' کے مصداق آرمی کو آنا پڑے گا 


31 August 2014

سیاست اور مبالغہ

بعض صاحبان مبالغے میں اس حد تک تیز ہوتے ہیں کہ الامان الحفیظ...ایسے ہی ایک صاحب کو جانتا ہوں.ان صاحب کےکوئی جاننے والے کہوٹہ میں کسی اچھی پوسٹ پر ہیں اور وہ اپنے اس عزیز کا تعارف لوگوں میں یوں کرواتے ہیں کہ 'ایٹم بم اوہنے ای بنایا سی'.

یہی مبالغہ آرائی کرنے والے صاحب، جو فطرتا ن لیگ کے پکے حامی ہیں، کل کسی کو کہہ رہے تھے کہ طاہر القادری نے دس ہزار غلیلیں خریدی ہیں اور لال مرچ کی گولیاں بھی خریدی ہیں جو  کہ پڑیوں کی شکل میں ہیں ... ان کی بات سن کر مجھے شفقت محمود کا اٹھاسی ہزار موٹر سائیکلوں والا بیان یاد آ گیا اور اندر ہی اندر 'ہاسا' نکل گیا میرا ، لیکن ان کی عمر کی وجہ سے خاموش رہا 


29 August 2014

تذکرہ سلسلہ شریفاں

سلسلہ شریفیہ  جسے سلسلہ شریفاں  کہا جاتا ہے، پنجاب کا ایک نامور سلسلہ ہو گزرا ہے.اس سلسلے کی بنیاد محمد شریف نامی ایک درویش نے رکھی.موصوف خاندانی طور پر لوہار تھے مگر کچھ اپنی محنت سے اور کچھ بادشاہ وقت، سلطان غرب الہند ضیاء الحق کی مہربانی سے ان کا شمار صنعتکاروں میں ہونے لگا.تمام درویش صفت لوگوں کی طرح انہیں بھی بچوں سے بہت پیار تھا خصوصا  اپنے بچوں سے.اسی لئے حاکم وقت کی مہربانی سے اپنے بڑے  بیٹے کو ریاستی  سیاست میں داخل کروایا حالانکہ صلاحیت اس میں گلی محلے کے نزاعی امور نمٹانے  کی بھی نہ تھی، مگر بس الله والوں کی نظر کا جو منظور ہو جائے، اس کے کیا کہنے.
                                                           
سیاست و روحانیت میں قدم فرما ہونے 


حضرت نواز شریف آف رائونڈ شریف کی ایک خوشگوار موڈ میں یادگار تصویر  
موصوف کے یہ بڑے صاحبزادے  نواز شریف کے نام سے جانے جاتے تھے اور اسم بامسمی  تھے.ناصرف  یہ کہ وہ خود اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر آگے آنے کی بجائے 'نوازے' گئے تھے بلکہ وہ خود بھی نوازنے کی صفت سے مالامال تھے.جب اپنی خود کی الگ جماعت بنائی  اور پہلا الیکشن جیتا تو اپنے چھوٹے بھائی کو سب سے بڑی ریاست کا سربراہ بنایا.
                                                    

حضرت نواز شریف تدبر سے مالامال تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالم با عمل بن گئے مثلا وہ اول خویش  بعد درویش کے مقولے کو جتنی سنجیدگی سے لیتے تھے اور عمل کرتے تھے شاید ہی دنیا کی حالیہ تاریخ میں کسی نے کیا ہو.ان کی حکمت عملی یہ ہوتی تھی کہ اول بھی خویش ، بعد بھی خویش.جود و سخا کا یہ عالم تھا کہ جب کسی کی دعوت کرتے تو دسترخوان پر کم از کم ستر اقسام کے کھانے چنے جاتے اور یہ سارا کھانا وہ لوگ کھاتے جنہوں نے کبھی 'پیٹ بھر' کر نہیں کھایا ہوتا تھا.   
                                                
زمانہ عسرت  میں آپ کے دستر خوان کا ایک منظر 
انتخابی نشان شیر تھا مگر طبیعت میں ملائمت  اور نرمی اس قدر تھی کہ جب آپ کو پابند سلاسل کیا گیا تو مچھروں سے بھی گھبرا جاتے تھے.ان کا خود کا کھانا پینا نہایت سادہ تھا، جو ملتا کھا لیتے اور اگر کچھ نہ ملتا یا کم ملتا تو دوسرے کے سامنے سے اٹھا کر کھا لیتے.انہوں نے اپنی ساری زندگی پیار محبت کا پرچار کیا، نفرت سے بچنے کی تلقین خاص کر ذات پات کی بنیاد پر.ان کی اس تلقین کو ان کی صاحبزادی نے بہت سنجیدگی سے لیا.آپ کی طبیعت میں استغنا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا.اپنے لئے کچھ بچا نہیں رکھتے تھے، سب کچھ اپنے بچوں کے کاروبار میں لگا دیتے تھے یا دیگر ریاستوں کے پاس امانت رکھوا دیتے تھے.

آپ کی وجہ موت یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک دنیا دار قسم کا شخص جو نیازی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا خانقاہ قادریہ کے ایک درویش کے ہمراہ لشکر جمع کر کے دارالخلافہ پہنچا اور آپ سے تخت چھوڑنے کا مطالبہ کرنے لگا.
                                               
دائیں :نیازی سردار
بائیں : خانقاہ قادریہ کا درویش
             


اگرچہ دنیا سے آپ کو کوئی لگاؤ نہیں تھا مگر عوام (جو کہ آپ کے خیال میں آپ کے خلفا اور مریدین پر مشتمل تھی) کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا شرعی طور پر ٹھیک نہیں.آپ خود بھی اسی بات کے قائل تھے.کچھ مورخین نے لکھا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ بشر خطا کا پتلا ہے، اسی لئے آپ بار بار سیاسی خطاؤں کا ارتکاب کرتے تھے مگر ہمارے نزدیک اس قول کی سند کچھ زیادہ مضبوط نہیں اور سلسلہ  شریفان کے جو وابستگان باقی بچے ہیں، انہوں نے بھی اسے قابل اعتبار نہیں جانا.
                                                   
اپنے مریدین کی محبتوں کا جواب دیتے ہوئے 
    


آخر جب احتجاج حد سے بڑھ گیا تو مملکت کے سپہ سالار نے کاروبار زندگی کو بحال کرنے کی غرض سے آپ سے استعفیٰ مانگا اور انکار پر آپ کو پابند سلاسل کر دیا.
                                             
سپہ سلار جس نے آپ کو پابند سلاسل کروایا 

                                                           
زمانہ اسیری کی ایک تصویر 

آپ پر چند لوگوں کی ہلاکت کا مقدمہ چلا، متعلقہ قاضی نے آپ کو مصلوب کرنے کے احکامات دیے اور یوں آپ  نے اپنا نذرانہ حیات قضا کو پیش کیا. آپ کے بہت سے خلفا تھے جن میں ایک حضرت اسحاق ڈالر اور حضرت شوباز زیادہ مشھور'ہوئے ہیں، ان میں سے موخر الذکر کو بھی آپ کے ساتھ ہی مصلوب کیا گیا.
                                                 
مریدین اور خلیفہ اسحاق ڈالر کے ہمراہ خدا کی بارگاہ میں حاضری دیتے ہوئے 

آپ دونوں حضرات کا مزار رائیونڈ میں ہے.اب بھی سلسلہ شریفاں کی خانقاہیں کہیں کہیں لاہور سے پنڈی کے راستے میں پائی جاتی ہیں 
                                               

مورخہ 
١٠ ستمبر ٢٠٥٠
  

03 December 2013

Tariq Malik's dismissal by PM

Chairman Nab's dismissal reported by Rauf Klasra :

PMLN appointed speaker's relative as acting chairman NAB.Dismissed Tariq Malik for thumb impression verification :


IHC reinstated Tariq Malik.Opposition protested at his dismissal:



My Comments
Sharifs have'nt learnt anything from their past.they used to punish people for obeying law and standard operating proceedures,and they are doing it today as well.A few more months and they'll be unmasked.

26 July 2013

well played by PMLN,very well played indeed

اسی لئے میں الیکشن سے پہلے جھنجھنلا کر دعا کیا کرتا تھا کہ کاش مسلم لیگ (ن) کی حکمت آے کیونکہ پچھلے پندرہ سال سے یہ مرکز میں حکومت نہیں بنا سکے،جن ادوار میں ان کی حکومت تھی ان ادوار کی جھوٹی سچی کہانیاں ان کے سپورٹرز دوسروں کو سنا کر ٹرخآتے تھے .مجھے پتہ تھا کہ اس بار ایسا نہیں ہو گا ،اگر نام نہاد آزاد میڈیا نے انہیں چھوڑ بھی دیا تو سوشل میڈیا ان کو ننگا کر کے رکھ دے گا.
 آج مسلم لیگ (ن) کے وفد کی نائن زیرو حاضری ،صدارتی انتخابات میں  درخواست اور وفاقی حکومت میں شمولیت کی دعوت سے انہوں نے سوشل میڈیا پی اپنی شامت کو دعوت دے دی ہے .
انتخابات کی رات کو جب صرف پانچ فیصد نتایج ہے تھے تو میاں صاحب نے خود کے وزیر اعظم بننے کی نوید سنیی تھی اور دعا کی درخواست بھی کی تھی کہ انہیں بیساکھیوں والی حکومت نہ بنانی پڑے .حکومت بنانے کے پچاس دن کے اندر اندر ان کے وزرا نے نندی پور پروجیکٹ میں بیس ارب سے زیادہ کا کمیشن جیب میں ڈال لیا ہے .ایک مشیر اپنی دھری شہریت کے باعث مستعفی  ہو چکا ہے .بلوچستان اور دیگر شہروں میں بم دھماکے ہو رہے ہیں .مہنگیی ڈیڑھ گنا بڑھ گیی ہے.لگتا ہے کہ لگی حکومت کو احساس ہو گیا ہے کہ انہوں نے کچ زیادہ ہے بڑی بڑھکیں مر دی تھیں ،لہذا اب وہ ایم کیو ایم کو وفاق میں شمولیت کی دعوت دے کر سارا ملبہ ان پر گرانا چاہتے ہیں 
well played by PMLN,very well played indeed 

19 June 2013

PMLN bribing judges in a technically foolproof way

روزنامہ ایکسپریس 19 جون 2013 
ہو سکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس سفری الاؤنس بڑھانے کی کوئی معقول وجہ ہو لیکن ایک ایسے ملک  کے ججز کو 2 سرکاری گاڑیاں رکھنے کی اجازت دینا کہاں کا انصاف ہے ،کہ جس کا خزانہ بقول وزیر اعظم بالکل خالی ہو ؟

PMLN's unfair tax on small houses


روزنامہ جنگ 19 جون 2013 
روزنامہ ایکسپریس 19 جون ٢٠١٣ 
روزنامہ ایکسپریس ١٩ جون ٢٠١٣ 

PMLN's dual policy regarding luxury tax

روزنامہ ایکسپریس 19 جون 2013 
روزنامہ ایکسپریس 20 جون 2013 

روزنامہ جنگ ٢٠ جون 2013 


جناب چیف جسٹس صاحب نے یکساں لوڈ شیڈنگ کے لئے تو فورا آرڈر جاری کر دیا تھا ،اب لاہور ہائی کورٹ میں بیٹھے اپنے ماتحتوں سے کہیں نا کہ وہ اس پر نوٹس لیں کہ کیوں وزیر اعلی ہاوس اور جاتی عمرہ سمیت ان مقامات کو ٹیکس میں استثنیٰ دیا گیا ہے ،جو حکومتی اراکین یا ان کے دوستوں کی ملکیت ہیں ؟
دوسری طرف خود کو خادم اعلی کہلوانے کے شوقین میاں شہباز شریف کو بھی شرم آنی چاہیے کہ  نہ صرف اپنے اور اپنے یاروں  زرداری  اور ملک ریاض کی رہایش گاہوں کو تو اس ٹیکس سے بچا لیا گیا ہے،بلکہ فوج کی خوشامد کے طور پر کنٹونمنٹ بورڈز کے زیراہتمام علاقوں میں اس کا اطلاق تجویز نہیں کیا گیا ،اور کسی زمانے میں جس وزیر اعلی ہاوس میں انہوں نے یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا تھا ،اس کو بھی مستثنی رکھا گیا ہے اس ٹیکس سے.
کیا یہی غریب پروری ہے نام نہاد خادم اعلی کی ؟  

Electricity prices likely to witness a jump increase

روزنامہ ایکسپریس 20 جون 2013  

16 June 2013

Boot licker media

فاروق اقدس صاحب نواز شریف کی مدح سرایی میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہوے ،بحوالہ جنگ سنڈے میگزین 9 جون ٢٠١٣ 





PMLN's performance


روزنامہ جنگ ،مورخہ 16 جون  2013 کی چند خبریں