29 August 2014

تذکرہ سلسلہ شریفاں

سلسلہ شریفیہ  جسے سلسلہ شریفاں  کہا جاتا ہے، پنجاب کا ایک نامور سلسلہ ہو گزرا ہے.اس سلسلے کی بنیاد محمد شریف نامی ایک درویش نے رکھی.موصوف خاندانی طور پر لوہار تھے مگر کچھ اپنی محنت سے اور کچھ بادشاہ وقت، سلطان غرب الہند ضیاء الحق کی مہربانی سے ان کا شمار صنعتکاروں میں ہونے لگا.تمام درویش صفت لوگوں کی طرح انہیں بھی بچوں سے بہت پیار تھا خصوصا  اپنے بچوں سے.اسی لئے حاکم وقت کی مہربانی سے اپنے بڑے  بیٹے کو ریاستی  سیاست میں داخل کروایا حالانکہ صلاحیت اس میں گلی محلے کے نزاعی امور نمٹانے  کی بھی نہ تھی، مگر بس الله والوں کی نظر کا جو منظور ہو جائے، اس کے کیا کہنے.
                                                           
سیاست و روحانیت میں قدم فرما ہونے 


حضرت نواز شریف آف رائونڈ شریف کی ایک خوشگوار موڈ میں یادگار تصویر  
موصوف کے یہ بڑے صاحبزادے  نواز شریف کے نام سے جانے جاتے تھے اور اسم بامسمی  تھے.ناصرف  یہ کہ وہ خود اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر آگے آنے کی بجائے 'نوازے' گئے تھے بلکہ وہ خود بھی نوازنے کی صفت سے مالامال تھے.جب اپنی خود کی الگ جماعت بنائی  اور پہلا الیکشن جیتا تو اپنے چھوٹے بھائی کو سب سے بڑی ریاست کا سربراہ بنایا.
                                                    

حضرت نواز شریف تدبر سے مالامال تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالم با عمل بن گئے مثلا وہ اول خویش  بعد درویش کے مقولے کو جتنی سنجیدگی سے لیتے تھے اور عمل کرتے تھے شاید ہی دنیا کی حالیہ تاریخ میں کسی نے کیا ہو.ان کی حکمت عملی یہ ہوتی تھی کہ اول بھی خویش ، بعد بھی خویش.جود و سخا کا یہ عالم تھا کہ جب کسی کی دعوت کرتے تو دسترخوان پر کم از کم ستر اقسام کے کھانے چنے جاتے اور یہ سارا کھانا وہ لوگ کھاتے جنہوں نے کبھی 'پیٹ بھر' کر نہیں کھایا ہوتا تھا.   
                                                
زمانہ عسرت  میں آپ کے دستر خوان کا ایک منظر 
انتخابی نشان شیر تھا مگر طبیعت میں ملائمت  اور نرمی اس قدر تھی کہ جب آپ کو پابند سلاسل کیا گیا تو مچھروں سے بھی گھبرا جاتے تھے.ان کا خود کا کھانا پینا نہایت سادہ تھا، جو ملتا کھا لیتے اور اگر کچھ نہ ملتا یا کم ملتا تو دوسرے کے سامنے سے اٹھا کر کھا لیتے.انہوں نے اپنی ساری زندگی پیار محبت کا پرچار کیا، نفرت سے بچنے کی تلقین خاص کر ذات پات کی بنیاد پر.ان کی اس تلقین کو ان کی صاحبزادی نے بہت سنجیدگی سے لیا.آپ کی طبیعت میں استغنا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا.اپنے لئے کچھ بچا نہیں رکھتے تھے، سب کچھ اپنے بچوں کے کاروبار میں لگا دیتے تھے یا دیگر ریاستوں کے پاس امانت رکھوا دیتے تھے.

آپ کی وجہ موت یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک دنیا دار قسم کا شخص جو نیازی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا خانقاہ قادریہ کے ایک درویش کے ہمراہ لشکر جمع کر کے دارالخلافہ پہنچا اور آپ سے تخت چھوڑنے کا مطالبہ کرنے لگا.
                                               
دائیں :نیازی سردار
بائیں : خانقاہ قادریہ کا درویش
             


اگرچہ دنیا سے آپ کو کوئی لگاؤ نہیں تھا مگر عوام (جو کہ آپ کے خیال میں آپ کے خلفا اور مریدین پر مشتمل تھی) کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا شرعی طور پر ٹھیک نہیں.آپ خود بھی اسی بات کے قائل تھے.کچھ مورخین نے لکھا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ بشر خطا کا پتلا ہے، اسی لئے آپ بار بار سیاسی خطاؤں کا ارتکاب کرتے تھے مگر ہمارے نزدیک اس قول کی سند کچھ زیادہ مضبوط نہیں اور سلسلہ  شریفان کے جو وابستگان باقی بچے ہیں، انہوں نے بھی اسے قابل اعتبار نہیں جانا.
                                                   
اپنے مریدین کی محبتوں کا جواب دیتے ہوئے 
    


آخر جب احتجاج حد سے بڑھ گیا تو مملکت کے سپہ سالار نے کاروبار زندگی کو بحال کرنے کی غرض سے آپ سے استعفیٰ مانگا اور انکار پر آپ کو پابند سلاسل کر دیا.
                                             
سپہ سلار جس نے آپ کو پابند سلاسل کروایا 

                                                           
زمانہ اسیری کی ایک تصویر 

آپ پر چند لوگوں کی ہلاکت کا مقدمہ چلا، متعلقہ قاضی نے آپ کو مصلوب کرنے کے احکامات دیے اور یوں آپ  نے اپنا نذرانہ حیات قضا کو پیش کیا. آپ کے بہت سے خلفا تھے جن میں ایک حضرت اسحاق ڈالر اور حضرت شوباز زیادہ مشھور'ہوئے ہیں، ان میں سے موخر الذکر کو بھی آپ کے ساتھ ہی مصلوب کیا گیا.
                                                 
مریدین اور خلیفہ اسحاق ڈالر کے ہمراہ خدا کی بارگاہ میں حاضری دیتے ہوئے 

آپ دونوں حضرات کا مزار رائیونڈ میں ہے.اب بھی سلسلہ شریفاں کی خانقاہیں کہیں کہیں لاہور سے پنڈی کے راستے میں پائی جاتی ہیں 
                                               

مورخہ 
١٠ ستمبر ٢٠٥٠
  

17 December 2013

حضرت عیسی علی نبینا و علیہ سلام کی واپسی



السلام علیکم .
.اس پوسٹ میں میں حضرت عیسی علی نبینا و علیہ سلام کی واپسی سے متعلق پیش کروں گا اور اگلی پوسٹ میں امام مہدی علیہ سلام کے ظہور سے متعلق .
سب سے پہلے تو یہ بات قابل غور ہے کہ قرآن میں قرب قیامت کی کم از کم تین نشانیاں بڑی واضح بیان ہوئی ہیں.ایک دخان یعنی دھویں نکلنا،دوسرا دابتہ الارض اور تیسرا یاجوج ماجوج.حضرت عیسی یا امام مہدی علی نبینا وعلیھم السلام کا واضح طور پر ذکر کہیں نہیں .دوسرا یہ کہ یوں تو شیعہ بھی اور سنی حضرات بھی جب واقعہ معراج بیان کرتے ہیں تو نبی صل الله علیہ و آلہ وسلم کی چوتھے آسمان پر حضرت عیسی علیہ سلام سے ملاقات کا ذکر بھی کرتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ پہلے،دوسرے ،تیسرے ،پانچویں اور چھٹے آسمان پر جن انبیا سے ملاقات ہوئی وہ سب کے سب وہ تھے جو ظاہری طور پر اس دنیا سے پردہ فرما چکے تو چوتھے آسمان پر عیسی کیسے زندہ ہو سکتے ہیں ؟
عیسی علیہ سلام سے خدا نے فرمایا کہ اے عیسی میں آپ کو موت دوں گا اور اٹھاؤں گا اپنی طرف .قرآن میں متوفی کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معانی وہی ہیں جو ہم لیتے ہیں یعنی موت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے .اگر لفظی اور مطالبی ہیر پھیر میں پڑنے کی بجاے سیدھا سادھا ترجمہ قبل کر لیا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے اور واقعہ معراج کی بھی تصدیق ہو جاتی ہے.لیکن ہم لوگوں کی عادت بن چکی ہے کہ قرآن کی نص چھوڑ کر قرآن سے متصادم اور دیگر احادیث سے متصادم ایک حدیث پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں.واضح رہے کہ یہ عقیدہ رکھنا کہ عیسی علیہ سلام مصلوب کر دیے گیۓ تھے،صریحا غلط ہے بلکہ آیات قرانی کی روشنی میں جو بات قابل قبول نظر آتی ہے وہ یہ کہ جب یہودی آپ کو مصلوب کرنے جمع ہوے تو اشتباہ کی بنا پر کسی اور کو قتل کر دیا اور آپ محفوظ رہے لیکن بعد ازاں آپ کی طبعی وفات ہوئی.
سنی اور شیعہ بھائی جب عیسی علیہ سلام کی واپسی پر اصرار کرتے ہیں تو قادیانیوں کو وار کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ بتاؤ عیسی علیہ سلام جب آئیں گے تو صاحب شریعت نبی ہوں گے ؟جب مسلمان نفی میں جواب دیتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو الله کی شان کے خلاف ہوا کہ ایک صاحب شریعت نبی کو (نعوز باللہ،استغفرالله ) اس کی نبوت سے محروم کر دے اور بیچارے مسلمان کنفیوز ہو جاتے ہیں .
لہذا یہ عقیدہ کہ عیسی علیہ سلام کی وفات ہو چکی ،قرآن و حدیث کی روشنی میں زیادہ قابل اعتبار بھی ہے اور محفوظ بھی !
باقی مرضی آپ کی.............

امام مہدی علیہ سلام

دوسری پوسٹ : امام مہدی علیہ سلام سے متعلق 

وجہ پوسٹ : محترم سید علی عظیم صاحب مہدویت کے جھوٹے دعویداروں کے خلاف کافی کچھ لکھ رہے تھے ،لیکن ایک بھی پوسٹ میں انہوں نے اس طرف توجہ نہیں کی کہ سنی شیعہ حضرات کا امام مہدی سے متعلق جو عقیدہ ہے وہ ایک دوسرے سے بھت  مختلف ہے،لہذا لازمی طور پر جب ظہور مہدی علیہ سلام ہو گا (اگر ہوا تو) ان میں سے ایک گروہ ان کا منکر ہو گا.اور باقی وجوہات کا ذکر اس پوسٹ کے متن میں کیا گیا ہے .

متن :
احادیث میں امام مہدی علیہ سلام سے متعلق بہت کچھ ملتا ہے.مثلا کچھ احادیث میں حسنی اور کچھ میں حسینی بتایا گیا ہے اور ایک آدھ حدیث میں نبی صل الله علیہ و آلہ وسلم کے چچا حضرت عبّاس رضی الله عنہ کی آل میں سے بتایا گیا ہے.لیکن قرآن میں واضح طور پر ذکر نہیں.اہل تشیع کے مطابق امام مہدی علیہ سلام ،امام حسن عسکری علیہ سلام کے فرزند تھے اور ان کی ولادت عام بچوں کے طریقے سے ہٹ کر ہوئی تھی یعنی ولادت سے ایک رات قبل تک بھی ان کی والدہ میں ولادت کے آثار  نہ تھے اور یہ کہ وہ پانچ سال کی عمر میں مدینہ میں غایب ہو گیۓ تھے ،پھر ظاہر ہوے  چند سال کیلئے اور دوبارہ غائب ہو گیۓ اور اب قیامت کے نزدیک دوبارہ ظاہر ہوں گے .اگرچہ آج کل کے سنیوں کی اکثریت اس روایت کو نہیں مانتی ،بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ناواقف ہے،لیکن اکابرین اہل سنّت میں سے بہت سے لوگوں نے اسی چیز کو نقل کیا ہے مثلا ابن  حجر مکی نے صواعق محرقہ میں ،مولانا عبد الرحمن جامی نے شواہد النبوہ میں،ابن جوزی نے تذكرته الخوائص میں یہی بات لکھی ہے.زیادہ تر نے سرسری طور پر ،مگر مولانا جامی نے تفصیل سے لکھی ہے.
مگر بات یہ ہے کہ قرآن میں آمد مہدی علیہ سلام کا ذکر نہیں واضح طور پر.اہل تشیع کی ایک کتاب،کتاب  سلیم ابن قیس (جس کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی سب سے پرانی کتاب ہے اور اسے دو آئمہ ،امام زین العابدین اور امام محمد باقر علیھم السلام کی تائید حاصل ہے،مگر پھر بھی نجانے کیوں اس کا شمار ان کی معتبر ترین کتب میں نہیں ہوتا ) میں ذکر ہے کہ امام علی علیہ سلام نے فرمایا کہ قرآن میں قرب قیامت کے نزدیک جس دابه الارض  یعنی زمین کے جانور کا ذکر ہے ،وہ میں ہوں.
قرآن میں دابه مثبت لحاظ سے بھی استعمال ہوا ہے مثلا سوره انفال میں 'شر الدواب' مذمت کے لئے ،اور بارہویں پارے کی پہلی آیت میں غالباً الله کی کبریآیی کے لئے.لہذا اہل تشیع کی اگر اس روایت کے مطابق دیکھا جائے تو دابه کا اطلاق اگر امام علی علیہ سلام پر کیا جا سکتا ہے تو پھر امام مہدی علیہ سلام پر کیوں نہیں ؟تاہم یہاں الجھن یہ ہے کہ دابه کا ذکر ایک نشانی کے طور پر کیا گیا ہے اور ظاہری طور پر دیگر انسانوں کی طرح کھانے،پینے ،اور ان سے باتیں کرنے والے انسان کا گفتگو کرنا کیا نشانی ہو سکتا ہے ؟نیز یہ بھی کہ آیت میں ارض کی نسبت کچھ بھی مراد لیا جا سکتا ہے یعنی خشکی کا جانور ،یا زمین سے نکالا گیا جانور (جیسے صالح علیہ سلام کی اونٹنی پہاڑ سے نکالی گیی تھی ).اور مفہوم  ثانی زیادہ قریب تر لگتا ہے.سوال یہ ہے کہ اگر قرآن میں دخان اور یاجوج ماجوج  کا  ذکر قرب قیامت کی نشانیوں کے طور پر واضح انداز میں کیا گیا ہے تو امام مہدی علیہ سلام کا کیوں نہیں ؟
نیز اکثر یہ حدیث بیان کی جاتی ہے کہ جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر گیا ،تو وہ کفر پر مرا .تو یھاں بھی سوال اٹھتا ہے کہ اگر امام غیبت میں ہیں تو پھر تو جو لوگ ان کی معرفت حاصل نہ کر سکے ،ان پر کوئی دوش ہی نہیں .نیز اہل تشیع آئمہ کرام کو ہی اولی الامر مانتے ہیں اور ان ہی کو لائق اطاعت جانتے ہیں خدا اور رسول صل الله علیہ و آلہ وسلم کے بعد .تو غیبت کی صورت میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان کی غیبت کے دوران اولی الامر کون ہو گا  اور کون لائق اطاعت ہو گا ؟  

16 December 2013

جاہل کہوں یا منافق

جنگ  اخبار کے ایک کالمسٹ  ہیں انصار عباسی نامی.موصوف نجانے کہاں سے دین سیکھتے رہے ہیں ،ہر پندرہ ،بیس دن بعد موصوف کے پاس جب خبروں کا ذخیرہ ختم ہو جاتا ہے تو کسی نان ایشو کو ایشو  بنانے چل پڑتے ہیں.کبھی جناب کو اس بات پر اعتراض  ہوتا ہے کہ میٹرک  کی اردو کی کتاب میں ایک ہندو شاعر رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری کی غزلیات کیوں شامل کی گیی ہیں ؟ کبھی مواف کا ہدف تنقید ملالہ  ہوتی ہے ،صرف اس لئے کہ اس نے بین الاقوامی قارئین کا ذوق مد نظر رکھ  کر نبی آخر الزمان حضرت محمّد کے اسم گرامی کے ساتھ صل الله علیہ و آلہ وسلم  نہیں لکھا .
جناب پر ماضی میں یہ الزام بھی لگتا رہا ہے کہ ان کا تعلق حزب التحریر سے ہے اور بظاھر یہ الزامات خاصے وزنی لگتے ہیں کیونکہ موصوف بارہا جمہوریت کو تمام خرابیوں کی جڑ اور خلافت کو تمام مسایل کا حل قرار دے چکے ہیں.ابھی حال ہی میں  ایک  تکفیری گروپ کے سربراہان سے ملاقات کی تصاویر بھی سامنے آی ہیں.موصوف کو یوں تو اسلامی نظام لانے کا بہت شوق ہے مگر جب طالبان کو سزاے موت دینے پر عمل کا وقت اتا ہے تو رات رات بھر ان کو نیند نہیں آتی .کوئی ڈیڑھ ،دو درجن کالم طالبان کی وکالت اور امن قایم کرنے کے لئے ایک اہم اسلامی قانون (قاتل  کو سزاے موت ) پرپابندی لگانے کے حوالے سے لکھ مارتے ہیں،مقصد صرف یہ کہ ان کے یار بچ جاییں.اسی طرح بنکنگ سسٹم کو حرام کہتے ہیں مگر اسلامی بنکنگ کو حلال کہتے ہیں حالانکہ اقتصادی اور مذہبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلامی بنکنگ اور عام بنکنگ میں کوئی فرق نہیں .موصوف صرف ایک خاص مکتب کے ایک مفتی کو نوازنے کیلئے اس قسم کی باتیں کرتے ہیں جو وفاقی شرعی عدالت کے جج  رہ  چکے ہیں ،طالبان کی حمایت کا اظہر بھی کرتے رہتے ہیں ،اور اسلامی بنکنگ کو حلال کہتے ہیں حالانکہ ان کے مذہبی استاد جو خود بھی ایک مفتی ہیںاور اسی مسلک سے ہیں ، وہ اپنے فتوے میں پاکستان میں رایج اسلامی بنکنگ کو حرام قرار دے چکے ہیں.
یہ صاحب مشرف کے خلاف لکھنے میں بھی پیش پیش ہیں کیونکہ انہوں نے ان کی جماعت حزب التحریر پر مناسب وقت پر پابندی لگا کر پاکستان کو ایک باررے نقصان سے بچا لیا تھا شاید اسی چیز کا بغض دل میں لئے بیٹھے ہیں اب تک.
ابھی حال ہی میں ایک پورا کالم انہوں نے اس بات کی مذمت میں لکھا ہے کہ آکسفورڈ کی کتب میں امہات المومنین ،صحابہ کرام اور آئمہ کے اسما مبارک کے ساتھ رضی الله عنہ / عنہا  کیوں نہیں لکھا گیا ؟موصوف کو پتہ ہونا چاہیے تھا کہ بین الاقوامی قارئین کیلئے جب کوئی کتاب لکھی جاتی ہے تو اسی اسلوب میں لکھی جاتی ہے.اور اگر موصوف نے کسی ملا سے دین سیکھنے کی بجاے خود بھی تھوڑی بہت کوشش کی ہوتی تو ان کو معلوم ہوتا کہ کتب احادیث میں جہاں جہاں احادیث بیان ہوئی ہیں،کہیں بھی اصل متن میں کسی صحابی ،صحابیہ ،ام المومنین کیلئے رضی الله عنہ کا صیغہ استعمال نہیں ہوا بلکہ صرف ناموں کا ذکر ہے اور خود نبی کریم صل الله علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بھی درود کا صیغہ اصل متن میں موجود نہیں .
جناب انصار عباسی صاحب ! ملک کے حقیقی مسایل پر توجہ دیجئے اور تسلیم کر لیجئے کہ انویسٹیگیٹو جرنلزم آپ کے بس کی بات نہیں .آپ صرف عدلیہ اور طالبان  کی چاپلوسی ہی کر سکتے ہیں . 

03 December 2013

Tariq Malik's dismissal by PM

Chairman Nab's dismissal reported by Rauf Klasra :

PMLN appointed speaker's relative as acting chairman NAB.Dismissed Tariq Malik for thumb impression verification :


IHC reinstated Tariq Malik.Opposition protested at his dismissal:



My Comments
Sharifs have'nt learnt anything from their past.they used to punish people for obeying law and standard operating proceedures,and they are doing it today as well.A few more months and they'll be unmasked.